19 جولائی 2026 - 17:06
فائنینشل ٹائمز: ٹرمپ نے امریکی سفارت کاری کا روایتی ڈھانچہ بدل دیا، سیکڑوں پیشہ ور سفارت کار برطرف

فائنینشل ٹائمز کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے امریکی وزارتِ خارجہ میں گزشتہ کئی دہائیوں کی سب سے بڑی تنظیمی تبدیلیاں کرتے ہوئے سیکڑوں پیشہ ور سفارت کاروں کو فارغ کر دیا اور سیاسی تقرریوں کے ذریعے واشنگٹن کے روایتی سفارتی نظام میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، برطانوی روزنامہ فائنینشل ٹائمز نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے دوران امریکی وزارتِ خارجہ کو بڑے پیمانے پر تنظیمی تبدیلیوں، عملے میں نمایاں کمی، تجربہ کار سفارت کاروں کی برطرفیوں اور سیاسی بنیادوں پر تقرریوں کا سامنا ہے، جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے امریکہ کی سفارتی صلاحیت کمزور ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، رواں سال جون کے اختتام تک دنیا بھر میں امریکہ کے نصف سے زائد سفارت خانوں میں سفیر تعینات نہیں تھے، جبکہ افریقہ میں امریکی سفارت خانوں کے تقریباً 80 فیصد سفیر کے بغیر چلائے جا رہے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں سفیر کے لیے نامزد کیے گئے 101 افراد میں سے صرف 9 کا تعلق امریکی وزارتِ خارجہ کے پیشہ ور سفارتی عملے سے تھا۔

اسی دوران ٹرمپ کے دوبارہ وائٹ ہاؤس آنے کے بعد وزارتِ خارجہ کے ملازمین کی تعداد میں تین ہزار سے زیادہ، یعنی 20 فیصد سے زائد، کمی واقع ہوئی ہے۔

امریکی حکومت ان تبدیلیوں کو "امریکہ فرسٹ" پالیسی کے مطابق وزارتِ خارجہ کی اصلاحات قرار دیتی ہے، تاہم سابق سفارت کاروں کے مطابق یہ سفارتی ادارے کو سیاسی رنگ دینے اور تجربہ کار ماہرین کو نظام سے باہر کرنے کی کوشش ہے۔

امریکہ کے سابق سفیر نک برنز نے موجودہ صورتحال کو امریکی خارجہ سروس کی 102 سالہ تاریخ کا سب سے تباہ کن بحران قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ پیشہ ور سفارت کاروں کو نظر انداز کرنے سے دنیا میں امریکہ کا اثر و رسوخ کمزور ہوگا۔

سابق سی آئی اے ڈائریکٹر بل برنز نے بھی کہا کہ وزارتِ خارجہ کو پہنچنے والا نقصان 1950 کی دہائی کے میکارتھی ازم کے دور سے بھی زیادہ وسیع ہے، کیونکہ اس نے تقریباً تمام تخصصی شعبوں کو متاثر کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ بین الاقوامی بحرانوں کے حل کے لیے پہلے سے زیادہ اپنے قریبی ساتھیوں، سیاسی حامیوں اور مالی معاونین پر انحصار کر رہے ہیں، جس کے باعث پیشہ ور سفارت کاروں کا کردار محدود ہو گیا ہے۔ ان کے بقول، اس طرزِ عمل نے امریکی خارجہ پالیسی میں مذاکرات اور فیصلہ سازی کے معیار کو متاثر کیا ہے، یہاں تک کہ واشنگٹن کے اتحادی بھی وزارتِ خارجہ کے بجائے صدر کے قریبی حلقے سے رابطہ کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

دوسری جانب، ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کا مؤقف ہے کہ وزارتِ خارجہ کا کام خارجہ پالیسی بنانا نہیں بلکہ صدر کی پالیسیوں پر عمل درآمد کرنا ہے۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا اور عالمی رہنماؤں کے درمیان براہِ راست رابطوں کے اس دور میں سفارت خانوں اور روایتی سفارتی رپورٹنگ کی اہمیت ماضی کے مقابلے میں کم ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے اختتام میں کہا گیا ہے کہ اگر مستقبل میں امریکہ میں حکومت تبدیل بھی ہو جائے تو وزارتِ خارجہ کو اس کی سابقہ ساخت اور حیثیت میں واپس لانا آسان نہیں ہوگا، اور متعدد سینئر سفارت کار ان تبدیلیوں کو امریکی خارجہ پالیسی میں ایک نسلی اور دیرپا تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha